کالم اور بلاگ


کراچی کی انتہائی مختصر سی دلچسپ تاریخ
کراچی ایک قدرتی بندرگاہ ہے جس کی تاریخ بھی بہت قدیم ہے اور کہا جاتا ہے کہ سکندر اعظم وادی سندھ میں اپنی مہم کے بعد فوج کی واپس روانگی کے لیے کروکولا (کراچی) میں مقیم ہوا۔
عرب اس علاقہ کو دیبل کے نام سے جانتے تھے جس میں موجودہ کراچی کے چند علاقے اور جزیرہ منوڑہ وغیرہ شامل تھے۔
تاہم 1772 میں کولاچی نامی گاﺅں تجارتی مرکز میں تبدیل ہونا شروع ہوا تو شہر کی فصیل بنائی گئی جس کے ایک دروازے کا رخ سمندر کی طرف تھا جسے کھارادر کا نام دیا گیا جبکہ لیاری ندی والے دروازے کو میٹھا در کہا گیا۔
انگریزوں نے 1839 میں اس شہر پر حملہ کرکے قبضہ کرلیا اور پھر اسے ضلع کی حیثیت دے دی جس کے بعد یہ پھیلنا شروع ہوگیا۔
یہی وجہ ہے کہ یہاں اکثر پرانی عمارات کا فن تعمیر کلاسیکی برطانوی نوآبادتی طرز کا ہے۔
1936 میں سندھ کو صوبہ بنایا گیا تو کراچی اس کا دارالحکومت بنا جبکہ 1947 میں پاکستان کے قیام کے بعد یہ پاکستان کا دارالحکومت بن گیا، اُس وقت شہر کی آبادی چند لاکھ تھی مگر پاکستانی صدرمقام بننے کی وجہ سے اس کی آبادی بڑھنے لگی۔
اب کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور صنعتی و تجارتی مرکز ہے۔